کرونا عالمی وبا کیوں

ایک بیوی چار بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں مال کیسے تقسیم کی جا ئے؟

سوال نمبر 904

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ:-- کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہو گیا اسکی ایک بیوی چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں اب مال کیسے تقسیم کیا جا ئے۔ بینواتو جروا    
المستفتی: مولانا وسیم القادری اترولہ





وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
اگر قرض باقی ہو تو پہلے زید کے مال سے قرض ادا کیا جا ئے یونہی وصیت من الثلث نکالا جا ئے بعدہ پورے مال کا ۱۰۴/ ایک سو چار حصہ کیا جائے پھر اس کا آٹھواں حصہ یعنی ۱۳/ تیرہ حصہ بیوی کو دے دیا جائے کیونکہ اولاد ہونے کی صورت میں بیوی کا آٹھواں حصہ ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ”وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ۔فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْدَیْنٍ“ اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو،پھر اگر تمہارے اولاد ہو، تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں، جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔(کنزالایمان،سورہ نساء آیت نمبر ۱۲)
بقیہ۹۱/اکیانوے حصہ میں۱۴،۱۴/چودہ چودہ حصہ لڑکوں کو دے دیا جائے،اور ۷/۷/ سات،سات حصہ لڑکیوں کو دے دیا جائے کیونکہ لڑکیوں کے بنسبت لڑکوں کا دو گنا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلَادِ کُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ“ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں  برابر ہے۔(کنزالایمان،سورہ نساء آیت نمبر ۱۲)
واللہ تعالٰی اعلم باالصواب

       کتبہ
فقیر تاج محمد  قادری واحدی
۱۱/ رمضان المبارک  ۱۴۴۱؁ھ  
۵/مئی۰۲۰۲؁ء  بروز پیر

انگریزی کیپ پہننا کیسا ہے؟

سوال نمبر 903

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ 
انگریزی کیپ پہننا کیسا ہےاسے پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے
برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں

محمد طارق  جمشیدپور جھاڑکھنڈ





وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 
الجواب بعون الملک الوھاب
انگریزی کیپ پہننا مکروہ (تنزیہی) ہے   مگر اسے پہن کر نماز ہو جائے گی 
کیوں کہ اعلٰی حضرت سرکار نے ۱۰۰ سال پہلے  پینٹ شرٹ پہننے  کو ناجائز و حرام لکھا تھا کیوں کہ وہ اس وقت انگریزوں کا خاص  شعار تھا اور اب پینٹ شرٹ انگریزوں کا خاص  شعار نہیں رہا اس لئے پینٹ شرٹ پہن کر  نماز ہو جاتی ہے تو  اسی طرح انگریزی کیپ میں بھی نماز ہوجائے گی؛ 

ماخوذ مجلس شرعی کے فیصلے صفحہ 519 

واللہ تعالی اعلم بالصواب 
     کتبــــــــــــہ
محــمد معصـوم رضا نوری عفی عنہ
منگلور کرناٹک انڈیا 

 ۱۱/ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ ہجری ۵/ مئی  ۰۲۰۲؁ عیسوی  بروز منگل

تہجد سنت ہے یا نفل، اور کتنی رکعت ہے؟

سوال نمبر 902

السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین   اس مسلئہ کے تعلق سے کہ
تہجّد کی نماز سُنت ہے یا نفل ہے کیا  تہجّد کی دو دو رکعت کا  الگ نام اور چار چار رکعت کا الگ نام ہے اور کتنی رکعت ہے نیت کیسے کرینگے 
سائل محمد زبیر القادری دہلوی  کشی وین کنگفود مارشل آرٹ کلب  دہلی





وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ 
الجواب بعون الملک الوھاب 
تجہد سنت مستحبہ ہے بہ نیت سنت پڑھی جاتی ہے ۔کم سے کم دو رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں ۔بحوالہ فتح القدیر و فتاویٰ عالمگیری
تہجد کو دو رکعت کرکے پڑھے اس میں آسانی ہے ۔
 تہجد نفل کےحکم میں ہے ۔ تو نفل کو دو دو اور چار چار کرکے پڑھ سکتے ہیں ۔مگر جب دو رکعت سے زیادہ کی نیت ہو تو ہر دو رکعت پر قعدہ اخیرہ کی طرح تشہد کے بعد درود شریف اور دعائے ماثورہ بھی پڑھنا ہوگا ۔
تہجد کی نیت یہ ہے ،،
  نیت کی میں نے دو رکعت نماز سنت تہجد کی واسطے اللہ تعالٰی کے منھ میرا طرف کعبہ شریف کے اللہ اکبر۔
دو رکعت اور چار رکعت کا نام ایک ہے اس کے لئے کوئی دوسرا نام نہیں ۔
ماخوذ بہارشریعت جلداول حصہ چہارم صفحہ ٢٣  
اورقانون شریعت حصہ اول صفحہ ١٢٤ 
مؤمن کی نماز صفحہ ٢٨١پر ہے کہ ،، تہجد سنت مستحبہ ہے اور تمام مستحب نمازوں سے اعظم اور اہم ہے قرآن مجید اور احادیث کریمہ میں حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کی ترغیب سے مالا مال ہیں ۔
عامہ کتب مذہب میں اسے مندوہات ومستحبات میں شمار کیا گیا ہے ۔اگرچہ یہ نمازسنت مؤکدہ نہیں لیکن اس کا تارک فضل کبیر اور خیر کثیر سے محروم ہے مگر گنہگار نہیں ۔
بحوالہ فتاوی رضویہ جلدسوم صفحہ ٤٥٤
ابتداۓ امر میں تہجدکی نماز حضوراقدس ﷺ پر اور حضور اقدس ﷺکی امت پر فرض تھی لیکن بعد میں بدلیل اجماع امت اس نماز کی فرضیت امت کے حق میں منسوخ ہوگئ ۔
ام المؤمنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے حدیث مروی ہے کہ قیام اللیل حضور اقدس ﷺ پر فرض اور امت کے حق میں سنت تھا ۔
بحوالہ فتاوی رضویہ جلدسوم صفحہ ٤٥٥ اور٤٥٦

وھو سبحانہ تعالٰی اعلم بالصواب 
کتـــبہ
العبد محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ 
دارالعلوم اھلسنت محی الاسلام 
بتھریاکلاں ڈومریا گنج 
سدھارتھنگر یوپی 
١٠   رمضان المبارک ١٤٤١ھ
٤   مئی ٢٠٢٠ ء

لاک ڈاؤن کے وجہ سے نماز عید گھر پر پڑھنا کیسا؟

سوال نمبر 901

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ 
اجکل ایک سوال آرہا ہے کہ کیا عید کی نماز گھر پہ پڑھ سکتے ہیں 
کچھ لوگ عید گاہ میں پڑھ لیں باقی دس پانچ آدمی الگ الگ گھر پہ جماعت کرلیں کیا ایسا کرنا درست ہے 
سائل عباس علی پونا





وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
عیدین کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انہیں پر جن پر جمعہ واجب ہے اور اس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لیے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور عیدین میں سنت، اگر جمعہ میں خطبہ نہ پڑھا تو جمعہ نہ ہوا اور اس میں نہ پڑھا تو نماز ہوگئی مگر برا کیا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ قبل نماز ہے اور عیدین کا بعد نماز، اگر پہلے پڑھ لیا تو برا کیا، مگر نماز ہوگئی لوٹائی نہیں جائے گی اور خطبہ کا بھی اعادہ نہیں اور عیدین میں نہ اذان ہے نہ اقامت صرف دو بار اتنا کہنے کی اجازت ہے۔
الصلوٰۃ جامعة
بہار شریعت حصہ چہارم
موجودہ صورتحال میں لاک ڈاؤن کےسبب لوگوں کو اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں ہےاس لئے لوگ مجبور ہیں اس وجہ سے ان پر نماز جمعہ و عیدین فرض نہیں- کہ بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کاخوف نہ ہونا،یہ جمعہ وعیدین کے لئے شرط ہے۔
ھکذا بہارشریعت حصہ چہارم
اب لوگوں کا یہ سوال کرنا کہ گھر میں پڑھ لیں معلوم ہونا چاہئے کہ مصر یا فنائے مصر کا ہونا بھی شرط ہے دیہات وغیرہ میں جمعہ وعیدین کی نماز نہیں ہوگی۔ جیسا کہ حضور اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ
جمعہ وعیدین دیہات میں ناجائز ہے اور ان کا پڑھنا گناہ مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو انہیں منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اللہ ورسول کا نام لے لیں غنیمت ہے
 کمافی البحرالرائق والدرالمختاروالحدیقۃ الندیة وغیرھا۔
فتاویٰ رضویہ قدیم جلد سوم صفحہ ٧١٩
اگر شہر میں ہوں تو بھی گھر میں عیدین کی نماز نہیں ہو سکتی اس لئے کہ دو اہم شرطیں نہیں پائی جائینگی
ایک تو اذن عام یہ شرط موجودہ صورتحال میں اور بھی مشکل ہے گھر میں مزید
دوم:- جمعہ وعیدین کی نماز ہرکوئی نہیں قائم کرسکتا
جیسا کہ حضور اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ
جمعہ وعیدین کی امامت پنجگانہ کی امامت سے بہت خاص ہے امامت پنجگانہ میں صرف اتنا ضرور ہے کہ امام کی طہارت ونماز صحیح ہو قرآن عظیم صحیح پڑھتا ہو بدمزہب نہ ہو فاسق معلن نہ ہو پھر جو کوئی پڑھا دے گا نماز بلا خلل ہو جائے گی بخلاف نماز جمعہ وعیدین کہ ان کے لئے شرط ہے کہ امام خودسلطان اسلام ہو یا اس کا ماذون اور جہاں یہ نہ ہوں تو بضرورت جسے عام مسلمانوں نے جمعہ وعیدین کا امام مقرر کیا ہو کما فی الدرمختاروغیرہ دوسرا شخص اگرچہ کیسا ہی عالم وصالح ہو ان نمازوں کی امامت نہیں کر سکتا اگر کرے گا نماز نہ ہوگی۔
فتاویٰ رضویہ قدیم جلد سوم صفحہ ٨٠١
جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سنی صحیح العقیدہ ہو، احکام شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہے لہٰذا وہی جمعہ وعیدین قائم کرے بغیر اس کے اجازت کے نہیں ہو سکتا اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ایسا جمعہ کہیں سےثابت نہیں۔
بہار شریعت حصہ چہارم 
خلاصہ ان شرائط کے نہ پائے جانے کے سبب نماز عید گھروں میں ہرگز ہرگز نہ ہوگی۔

اگرلاک ڈاؤن کھل گیا پھر تو کوئی بات نہیں ورنہ جس طرح چند لوگ نماز جمعہ میں شریک ہوکر جمعہ پڑھتے ہیں اورباقی لوگ حکومت کےخوف سے مسجد تک نہیں آتے اسی طرح عید کی بھی نماز پڑھی جائے گی
موجودہ صورتحال کے سبب نماز عید کے بارے میں مسلمان معذور ہیں نماز عید ان کے ذمہ سے ساقط ہے کچھ نا اھل اور بدمذہبوں کی غلط مسئلہ بیانی جو ویبسائٹ پر عام ہے اس سے اجتناب کریں اوران کی تحریر پر ہرگز ہرگز عمل نہ کریں

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتــــبہ 
محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی
 بلرامپوری خطیب وامام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر

بیس رکعت تراویح کا ثبوت؟

سوال نمبر 900

السلامُ علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
تراویح بیس رکعث کہاں کہاں سے ثابت ہے 
جواب  صرف مدلل  
قرآن و حدیث سے 
سائل محمد  شمشیر رضا  نوری 
کشی  نگر



وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

الجواب بعون الملك الوھاب
حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ بحوالہ حدیث شریف تحریر فرماتے ہیں کہ 
   
جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں  ہیں اور یہی احادیث سے ثابت، بیہقی نے بسند صحیح سائب بن یزید رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ لوگ فاروقِ اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں  بیس رکعتیں  پڑھا کرتے تھے۔ اور عثمان و علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کے عہد میں  بھی یوہیں  تھا۔  اور موطا میں  یزید بن رومان سے روایت ہے، کہ عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں  لوگ رمضان میں  تیئس ۲۳ رکعتیں  پڑھتے۔  بیہقی نے کہا اس میں  تین رکعتیں  وتر کی ہیں ۔ اور مولٰی علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو حکم فرمایا: کہ رمضان میں  لوگوں  کو بیس ۲۰ رکعتیں  پڑھائے۔ نیز اس کے بیس رکعت ہونے میں  یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس  رکعتیں  ہیں ، لہٰذا مناسب تھا کہ یہ بھی بیس ہوں  کہ مکمل و برابر عشاء ہوں

(بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر 30/تروایح کا بیان)

کتبہ محمد الطاف حسین قادری
خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند
 موبائل فون/9454675382

فرض نماز میں تیسری رکعت میں سورۃ ملانا کیسا؟

سوال نمبر 899

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام منفرد  اگر فرض نماز میں تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھ دیا تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی؟
سائل محمد عباس اشرفی کچھوچھہ شریف




وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعون الملک الوہاب
 صورت مسئولہ میں نماز ہوجائے گی؛   حضور اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 
فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملالے تو کچھ مضائقہ نہیں  صرف خلاف اولی ہے  بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے فقیر کے نزدیک ظاہراً یہ استحباب تنہا پڑھنے والے کے حق میں ہے امام کے لئے ضرور مکروہ ہے؛  

 منفرد کے تعلق سے  تحریر فرماتے ہیں؛ 
در مختار میں ہے
ضم سورة فی الاولین من الفرض  و ھل یکرہ فی الآخرین المختار لا "
فرض کی دو پہلی رکعتوں میں  سورت کا ملانا؛ اور پچھلی رکعتوں میں مکروہ ہے ؟  مختار یہ کہ مکروہ نہیں 
ردالمحتار میں ہے:  
ای لا یکرہ تحریما بل تنزیھا لا نہ خلاف السنة
یعنی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی ہے کیوں کہ یہ خلاف سنت ہے؛ 

امام کے تعلق سے اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر  فرماتے ہیں؛  

للامام الزیادة علیھا لا طالته علی مقتدین فوق السنة  بل لواطال الی حد الاستثقال کرہ تحریما"
امام کے لئے  فاتحہ پر اضافہ کرنا مکروہ ہوگا  کیوں کہ یہاں مقتدیوں سے بڑھ کر سنت پر طوالت کی  کہ مقتدیوں پر گراں گزری تو یہ مکرو تحریمی ہوگی؛

ماخوذ فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 192 تا 194
[مطبع رضا فاؤنڈیشن لاہور]

واللہ تعالی اعلم باالصواب

       کتبـــــــــہ 
محـمـد معصـوم رضا نوری عفی عنہ منگلور کرناٹک انڈیا
۵  / رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ ہجری 
۲۹ / اپریل ۰۲۰۲؁ عیسوی  بروز بدھ

فاسق سے سلام کرنا کیسا

سوال نمبر 898

 اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام فاسق معلن سے سلام کرنا کیسا ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
المستفتی  محمد عباس اشرفی کچھوچھہ شریف




وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 
الجواب بعون الملک الوہاب
 فاسق معلن  سے سلام میں پہل نہیں کرنا چاہئے کہ فاسق سے سلام میں پہل کرنے سے اس کی تعظیم ہے 
حدیث شریف میں ہے  اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذٰلك العرش
جب فاسق کی تعریف (تعظیم)  کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی ہل جاتا ہے؛ 
(شعب الایمان للبیھقی جلد 4 صفحہ 231) 

 ہاں  اگر فاسق سلام کرے ، تو اس کے سلام کا جواب دے  سکتے ہیں؛ 

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛ 
جو شخص علانیہ فسق کرتا ہو، اسے سلام نہ کرے کسی کے پڑوس میں فساق رہتے ہیں، مگر ان سے یہ اگر سختی برتتا ہے تو وہ اس کو زیادہ پریشان کریں گے اور نرمی کرتا ہے، ان سے سلام کلام جاری رکھتا ہے تو وہ ایذا پہنچانے سے باز رہتے ہیں ، تو ان کے ساتھ ظاہری طور پر میل جول رکھنے میں یہ معذور ہے
  فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
واختلف في السلام على الفساق في الاصح انه لا يبدأ بالسلام كذا في التمرتاشى
 فاسق سے سلام کرنے میں فقہاء کا اختلاف ہے؛  زیادہ صحیح یہ ہے کہ فاسق سے سلام میں پہل نہ کی جائے)

 الفتاوی الہندیۃ‘‘،کتاب الکراہیۃ، الباب السابع في السلام،جلد 5،ص صفحہ 326) 

ایسا ہی بہار شریعت حصہ 16 سلام کے بیان میں ہے )

واللہ تعالی اعلم باالصواب

کتبـــــــــــہ
محمـــد معصـوم رضا نوری عفی عنہ
منگلور کرناٹک انڈیا

۵ / رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ ہجری 
۲۹ / اپریل ۰۲۰۲؁ عیسوی  بروز بدھ
[3:45 AM, 5/1/2020] صبغت اللہ: 

بچوں پر صدقہ فطر واجب ہے؟

سوال نمبر 897

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و بر کا تہ
مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میں نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ صدقہ فطر مالک نصاب پر ہے جبکہ بچوں کے پاس اتنا رقم رہتا ہی نہیں تو ان پر صدقہ فطر کیوں واجب ہے؟بینواتو جروا 
المستفتی:۔قاسم علی پنجاب




وعلیکم والسلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون المجیب الوھاب
آپ نے جو سنا وہ بیشک حق ہے یعنی جس کے پاس اتنا رقم ہو کہ وہ نصاب کو پہونچ جا ئے تو اس پر صدقہ فطرہے،اور اگر بچے کے پاس اتنا رقم نہیں کہ نصاب کو پہونچے تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے البتہ اس کے باپ پر واجب ہے کہ اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دے جیسا کہ علا مہ صدرت الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرما تے ہیں ”مردمالک نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے، جبکہ بچہ خود مالک نصاب نہ ہو، ورنہ اس کا صدقہ اسی کے مال سے ادا کیا جائے اور مجنون اولاد  اگرچہ بالغ ہو جبکہ غنی نہ ہو تو اس کا صدقہ اس کے باپ پر واجب ہے اور غنی ہو تو خود اس کے مال سے ادا کیا جائے۔ 
(''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸/بحوالہ بہار شریعت ح ۵)واللہ اعلم بالصواب

کتبہ 
فقیر تاج محمد قادری واحدی
۱۵/رمضان المبارک۰۴۴۱؁ھ

بیوہ عورت کا فطرہ کس کے ذمہ ہے؟

سوال نمبر 896

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و بر کا تہ
مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہو گیا دو بچے ہیں جو نابالغ ہیں اس لئے ہندہ اپنے بچوں کو لیکر اپنے والدین کے گھر چلی گئی اب معلوم کرنا یہ ہے کہ ہندہ و بچوں کا فطرہ کس کے ذمہ ہو گا؟بینواتو جروا 
المستفتی:۔ ثناء اللہ رتنا گری




وعلیکم والسلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون المجیب الوھاب
صدقہ  فطرہر مالک نصاب  پر واجب ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت شادی شدہ ہو یا مطلقہ یا بیوہ تو ہندہ اگر مالک نصاب ہے مثلا زیور وغیرہ یا روپیہ اس قدر ہے کہ نصاب کو پہونچے تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے وہ خود  ادا کرے گی اگر چہ والدین کے گھر رہتی ہو البتہ اس کے بچوں کا فطرہ اس پر نہیں  جیسا کہ علا مہ صدر الشریعہ علیہ ارحمہ تحریر فرما تے ہیں ”ماں پراپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ دینا واجب نہیں۔ (ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۴۶۸/ بحوالہ بہار شریعت ح ۵) 
  بلکہ اس کے شوہر پر تھا چو نکہ شو ہر کا انتقال ہو گیا تو اب اس کے دادا پر ہے جیسا کہ علا مہ صد الشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں ”باپ نہ ہو تو دادا باپ کی جگہ ہے یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتی کی طرف سے اس پر صدقہ دینا واجب ہے۔ (ایضا) 
اور اگر بچے کی ماں یا مامو یا نانا بچوں کا فطرہ ادا کردیں تو کوئی حرج نہیں مگر ان پر واجب نہیں ہے۔


واللہ اعلم بالصواب
کتبہ 
فقیر تاج محمد قادری واحدی
۵/رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ
۲۹/ اپریل ۰۲۰۲؁ء بروز بدھ

شادی شدہ لڑکی کا فطرہ کس کے ذمہ ہے؟

سوال نمبر 895

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و بر کا تہ
مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ شادی شدہ لڑکی کا فطرہ کس کے ذمہ ہے اس کے شوہر یا اس کے باپ پر؟یونہی اگر شادی شدہ نہ ہو تو کس پر ہے؟ بینواتو جروا
المستفتی:۔زینب بانوممبئی




وعلیکم والسلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون المجیب الوھاب
شادی شدہ لڑکی کے پاس اگر نصاب موجود ہے تو خود اس پر واجب ہے نہ اس کے باپ پر ہے نہ شو ہر پرہاں اگر شادی نہیں ہو ئی ہے تو اس کے باپ پر ہے جبکہ وہ خود مالک نصاب نہ ہو،اوراگر مالک نصاب ہے تو اسی پر ہے علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرما تے ہیں ”نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں اسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقہ واجب نہیں، نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالک نصاب نہ ہو، ورنہ بہرحال اس کا صدقہ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے۔ (الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸ //بحوالہ بہار شریعت ح ۵)


کتبہ 
فقیر تاج محمد قادری واحدی
۱۹/رمضان المبارک۰۴۴۱؁ھ

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

مرد کو ہاتھ پاؤں میں بلا عذر مہندی لگانا کیسا ہے
کیا جس کا پیر کوئی نہیں اس کا پیر شیطان ہوتا ہے؟

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد