کرونا عالمی وبا کیوں

لڑکی کی شادی کے لیئےزکوۃ دینا کیسا

سوال نمبر 210

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان  شرح متین کی زید کے پاس پچاس ہزار روپیہ ہے اور وہ مالک نصاب ہےاس کو اپنی لڑکی کی شادی کرنی ہے تو کیا بکر اس کو زکوۃ کا مال دے سکتا ہے یا نہیں زکوٰۃ کا روپیہ زید کیلئے لینا درست ہے کہ نہیں
محمد فاروق خان ممبئی


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
 صورت مسؤلہ میں عرض ہے کہ بکر زید کو مال زکوۃ نہیں دے سکتا اور اگر مال زکوۃ دیتا ہے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی ہاں اس کی مدد صدقہ واجبہ کے علاوہ مال سے کی جا سکتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے 
انما الصدقات للفقراء والمساکین والعملین علیہا والمؤلفۃ قلوبہم وفی الرقاب والغمرین وفی سبیل اللہ وابن السبیل فریضتہ من اللہ واللہ علیم حکیم 
صدقات فقراء و مساکین کے لئے ہیں اور ان کے لئے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لئے اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کے لیے اللہ کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے
امام احمد د وابوداؤد وحاکم ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے غنی کے لئے صدقہ حلال نہیں
اور مذکورہ سوال میں ظاہر ہے کہ زائد مالک نصاب ہے جس کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے ہاں اس کو خود زکوۃ دینا فرض ہے 
اور ایسا ہی احکام شریعت حصہ دوم دوم صفحہ نمبر 153 پر موجود ہے  صدقہ واجبہ جیسے زکوٰۃ صدقہ فطر غنی پر حرام ہے
اور ایسا ہی بہارشریعت حصہ پنجم میں مزید تفصیل تلاش کریں واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ
 محمد جواد القادری انصاری

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد