کرونا عالمی وبا کیوں

میت کے پاس قرآن مجید پڑھنا کیسا

سوال نمبر 451

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ میت کے سامنے چاروں طرف میت کو گھیر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا کیسا ھے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے فقط السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ 
 سائل : محمد عبدالرشید اشرفی  بہار






وعلیکم السلام ورحمةالله و وبرکاته

الجواب اللھم ہدایةالحق والصواب میت کے پاس اگر کئی لوگ بلند آواز سے تلاوت کریں تو اس طرح تلاوت کرنا حرام ہے جیسا کہ علامہ صدرا لشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں "مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے" (بہار شریعت ح ۳)
کیوں کہ قرآن کا سننا واجب ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے واذا قریٔ القران فاستمعوا لہٗ وانصتوا لعلکم ترحمون﴿پارہ ۹ سورہ اعراف/۲۰۴﴾
ترجمہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو، اس امید پر کہ رحم کيے جاؤ۔
ہاں اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں اور سب آہستہ پڑھیں تو جائز ہے  بشرطیکہ میت کے تمام بدن کپڑے سے چھپےہوں اور تسبیح ودیگر اذکار میں  مطلقا حرج نہیں  خواہ میت اسی کمرے میں ہو یا دوسرے کمرے میں
ردالمحتار میں ہے
  الحاصل ان الموت ان كان حدثا فلا كراهة فى القرأة عنده وان كان نجسا كرهت وعلى الاول يحمل مافى النتف و على الثانى مافى ذيلعى وغيره وذكر (طحطاوي) اذ محل الكراهه اذ كان قريبا منه اما انا اذا  بعد عنه بالقراءة فلا كراهة اھ" قلت والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت  مسجی یثوب یستر  جمیع بدفه ولا بأس بالتسبيح والتهليل وان رفع صوته اھ مخلصا (کتاب الصلوة باب الصلوة الجنازة  مطلب فی القرأة عندالميت  ج ۳ ص ۸۵ مطبع ذکریا)
 (بحوالہ فتاوی مرکزی تربیت افتاء جلد اول باب طعام المیت والفاتحة ص ٣٨١)
واللہ تعالی اعلم باالصواب

کتبـہ
 محــــمد معصــوم رضا نوری مقیم حال منگلور کرناٹکا الھند

+918052167976

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد