کرونا عالمی وبا کیوں

اگر کسے نے کہا کہ آپ نے چار رکعت کے بجائے تین رکعت پڑھی تو کیا کرے

سوال نمبر 402

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
 زید نے نماز ظہر ادا کی پھر اسکے پاس عمرو آیا اور کہا کہ آپ نے تین رکعت پڑھی ہے تو اب زید کیا کرے؟ حوالے کے ساتھ جلد جواب عنایت فرماۓ جتنی جلدی ہوسکے عین نوازش ہوگی.






و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 بسم اللہ الرحمن الرحیم
 الجواب-

 عمرو جس نے خبر دی ہے اگر وہ عادل ہے تو زید اپنی نماز کو دہراے اور اگر عادل نہیں ہے تو دہرانے کی ضرورت نہیں.
حضور صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

"ظہر پڑھنے کے بعد ایک عادل شخص نے خبر دی کہ تین رکعتیں پڑھیں تو اعادہ کرے اگر چہ اس کے خیال میں یہ خبر غلط ہو اور اگر کہنے والا عادل نہ ہو تو اس کی خبر کا اعتبار نہیں-"اھ (بہارشریعت،ج:١،ح:٤،ص:٧١٨،مکتبۃ المدینہ)

واللہ تعالیٰ أعلم.

کتبہ
محمد مـــــعــــــــراج احمد

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد