کرونا عالمی وبا کیوں

اجنبی لوگوں کا جوٹھا کھانا کیسا؟

سوال نمبر 486

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں مرد کو اجنبیہ عورت کا جوٹھا
 اور عورت کو اجنبی مرد کا جوٹھا کھانا کیسا ہے؟ 
 سائل :محمد غفران نوری




 وعلیکم السلام ور رحمة الله وبركاته*
الجواب بعون الملک الوهاب 

مرد کو غیر عورت کا اور عورت کو غیر مرد کا جھوٹا اگر معلوم ہو کہ فلانی یا فلاں   کا جھوٹا ہے بطور لذّت کھانا پینا مکروہ ہے مگر اس کھانے، پانی میں   کوئی کراہت نہیں آئی اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کا ہے یا لذّت کے طور پرکھایا پیا نہ گیا تو کوئی حَرَج نہیں   بلکہ بعض صورتوں   میں   بہتر ہے جیسے با شرع عالم یا دیندار پیر کا جھوٹا کہ اسے تبرّک جان کر لوگ کھاتے پیتے ہیں ۔
 ’فتاوی ھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني ج1، ص 23۔

ایسا ہی بہار شریعت حصہ 2 ص 343 پر ہے

والله اعلم باالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
محــــمد معصــوم رضا نوری مقیم حال منگلور کرناٹکا الھند
۹ صفر المظفر ۱۴۴۱ھ
۹ اکتوبر ۲۰۱۹ء
+918052167976

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد