کرونا عالمی وبا کیوں

بتوں کی پوجا کرے تو اس کی اذان و نماز کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 591

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
 زید مسلم ہے اور اذان و اقامت اور کبھی ضرورت پڑنے پر امامت بھی کر دیتا ہے اسنے ہندو رواج سے کسی دیوتا کی پوجا کی یا اس پہ  ایمان رکھا اب وہ اذان دے تو جماعت ہوگی یا نہیں ؟. حوالہ لازمی ہے
سائل ۔ صدام حسین قادری 




وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ

الجواب۔بعون الملک الوھاب اللھم ھدایة الحق والصواب 
صورت مستفسرہ میں وہ دیوتا کی پوجا کرنے کی وجہ سے کافر و مرتد ہوگیا کیونکہ بت کی پوجا کرنا کفر ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ جلد ٢١ ص ٢٩٧پر ہے.
اور مرتد کی اذان و اقامت درست نہیں اور نہ اس کے پیچھے نمازہوگی. 
مسلمانوں پر لازم ھے کہ ایسے شخص کو مسجد سے باھر کر دیں اور سماجی بائیکاٹ کریں ۔اور جتنی نمازیں اس کے مرتد ہونے کے بعد اسکے پیچھے پڑھی ھیں ان کا اعادہ کریں.


 وھو سبحانہ تعالٰی اعلم بالصواب 
         کتبه
العبد محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی عفی عنہ

دارالعلوم اھلسنت محی الاسلام 
بتھریاکلاں ڈومریا گنج
سدھارتھنگر                 یوپی 
١٩  ربیع النور   ١٤٤١  ھ
١٧   نومبر  ٢٠١٩  ء

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد