کرونا عالمی وبا کیوں

جسے قطرہ آنے کی بیماری ہو وہ کیسے نماز پڑھے

سوال نمبر 582

السلام علیکم ورحمتـہ اللہ وبرکاتـہ
سوال کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کو مسلسل پیشاب کا قطرہ آتا رہتا ہے تو وہ کیسے نماز ادا کرے؟
سائل جعفر علی لکھنؤ





وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب اللھم ہدایة الحق والصواب اگر پیشاب کے قطرے مسلسل آتے رہتے ہیں کہ  نماز نہیں پڑھ سکتا ہے تو وہ شرعی معذور ہے یعنی اس کے لئے حکم شرع یہ ہے کہ ایک بار وضوکرکے ایک وقت کی نماز پڑھے پھرجب  دوسراوقت شروع ہو تو پھر سے وضو کرے اور نماز پڑھے مثلا عصر میں وضو کرے اور عصر سے مغرب تک ایک وضو سے نماز پڑھے مغرب کے لگتے ہی وضو جاتا رہے گا پھر مغرب میں وضو کرکے عشاء تک پڑھے اسی طرح دیگر وقت میں بھی. 

یہ بھی معلوم ہو کہ ایک وقت سے دوسرے وقت تک صرف قطرہ آنے سے وضو نہیں جائےگا اور اگر کوئی ایسی بات پائی گئی جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو وضو جاتا رہے گا جیسے ہوا کاخارج ہونا نماز میں زور سے ہنسنا وغیرہ. (کتب فقہ)


نوٹ: اگرقطرہ آنے سے کپڑا گیلا ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز کے وقتوں میں پرانا رومال پیشاب کے مقام پر لگا لیا کرے جیسے عورتیں حالت حیض میں لگاتی ہیں تاکہ کپڑا گیلا نہ ہونے پائے. 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ

الفقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی اترولوی

١٤/ربیع الاول ١٤٤١ھ
١٢/نومبر٢٠١٩ء منگل

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد