کرونا عالمی وبا کیوں

عام مؤمنین کے قبر کو پختہ بنانا کیسا؟

سوال نمبر 577

السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ کرام اس تعلق سے کہ ایک شخص کا  انتقال ہوئے بہت عرصہ گزر گئے کم و بیش 50 سال اور آج اُسکی مزار لگا رہیں ہیں  تو کیا یہ جائز ہے؟اسکا جواب مفصل  طریقے سے دیں مہربانی ہوگی۔
سائل محمد زبیر القادری دہلوی





وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
 الجواب  بعون الملک الوھاب
اگر مذکورہ شخص محترم محتشم ھے تو اس کا مزار بنانا درست ھے ۔
جیسا کہ حضور صدرالشریعہ علیہ الر حمہ نے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ  اوپر سے قبرپختہ بنائیں اور اندر سے خام ھو تو اس میں حرج نہیں
فتاوی امجدیہ جلد اول باب الجنائز صفحہ 330
لہٰذا قبور اولیاء  علماء  صلحاء کو بغرض اظہار عظمت کے لیۓ پختہ بنانا جائزھے ۔اب جو یہ کہا گیا ھے کہ 50 سال بعد مزار بنایا جارھا ھے ۔اگر صالحین میں سے  شخص مذکور ھے تو بیشک اظہار عظمت کے لیۓ بنا سکتے ھیں ۔لیکن اگر کوئی عام مسلمان کی قبر ھے تو فتنے سے بچو ۔کیونکہ جہاں کوئی قبر نہ ہو مزار بنانا  ناجائز و حرام ھے ۔


وھوسبحانہ تعالی اعلم بالصواب ۔
      کتبه
العبد محمد عتیق الله صدیقی فیضی یارعلوی عفی عنہ 
دارالعلوم اھلسنت محی الاسلام 
بتھریاکلاں  ڈومریا گنج
سدھارتھ نگر یوپی 
٤   ربیع النور     ١٤٤١ھ
٢    نومبر        2019 ء

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد