کرونا عالمی وبا کیوں

عوامی قبرستان میں کسی بزرگ کا مزار بنانا کیسا؟

سوال نمبر 660

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
عرض یہ ہے کہ عوامی قبرستان میں کسی بزرگ کی قبر پر قبہ بنانا کیسا ہے ؟؟؟
جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
سائل:-- شہباز عالم جھارکھنڈ



وعلیکم السلام و رحمة الله و بركاته 
الجواب بعون المک الوہاب الوہاب 
علماء صلحاء و نیک صالحین بندوں کی قبر پر قبہ بنانا یا مزار بنانا جائز ہے اگر چہ قبرستان میں کیوں نہ ہو 
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ درمختار و ردالمحتار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ علماء و سادات کی قبور پر قبہ بنانے میں حرج نہیں اور قبر کو پختہ نہ کیا جائے یعنی اندر سے پختہ نہ کی جائے اور اگر اندر سے خام ہو اور اوپر سے پختہ تو حرج نہیں
 بہار شریعت ح۴ ص ۴۱۸ موبائل ایپ 
{مطبوعہ دعوت اسلامی}


وقد اباح السلف ان یبنی علی قبر المشایخ والعلماء المشاھیر لیزورھم الناس و یستریحوا بالجلوس فیہ 

{ترجمہ}  سلف نے  مشہور علماء و مشائخ کی قبروں کی عمارت بنانے کی اجازت ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کو آئیں اور اس میں بیٹھ کر آرام پائیں

مجمع بحار الانوار ۱۸۷/۲ 
{مطبوعہ منشی نو للکشور لکھنؤ}

بحوالہ فتاوی رضویہ جدید ۴۱۸/۹
{مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور}

کتبــــــہ
 محــــمد معصــوم رضا نوری 
منگلور کرناٹک انڈیا
۲۰ جمادی الاول ١٤٤١ھ
بروز جمعرات
       16/1/2020
        +918052167976

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد