سوال نمبر 743
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
علمائے کرام رہنمائی فرمائیں اس مسئلہ میں کہ زید بہت کمزور ہے اگر کچھ نہ کھائے پئے تو بیمار ہوجاتا ہے جس کاتجربہ ہے نیز بھوکا رہنے کے سبب بی پی بہت لو ہوجاتا ہے تو روزے کا کیا حکم ہے؟
سائل عبدالعزیز
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب ارشاد باری تعالٰی ہے يا ايهاالذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب علي الذين من قبلكم لعلكم تتقون اياما معدودات فمن كان منكم مريضا او علي سفر فعدة من ايام اخر وعلي الذين يطيقونه فدية طعام مسكين
اے ایمان والوں تم پرروزہ فرض کیا گیا جیسا کہ ان پر فرض ہوا تھا جو تم سے پہلے ہوئے تاکہ تم گناہوں سے بچو چند دنوں کا پھر تم میں جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ اور دنوں میں گنتی پوری کرلے اور جوطاقت نہیں رکھتے وہ فدیہ دیں ایک مسکین کاکھانا
(سورة بقرة أية 183 187)
صورت مسؤلہ میں اگر زید کے صحتیاب ہونے کی امید ہے تو ہرگز فدیہ دینا جائز نہیں اور نہ روزہ کی قضا کا بوجھ سر سے اترے گا ہاں اگر سال کےچھوٹے دنوں میں بھی قضا نہیں رکھ سکتا اور صحتیاب ہونے کی امید نہیں تو فدیہ دے جیسا کہ قرآن کریم سے ظاہر ہے
اور اسی طرح علامہ صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ الرحمہ بہارشریعت میں رقم طراز ہیں بھوک اور پیاس ایسی ہوکہ ہلاک ہونے کا خوف صحیح یانقصان عقل کا اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھے صحتیاب ہونے کے بعد روزہ رکھے،
بہارشریعت ح پنجم ص 1004 الفتاوی ھندیہ کتاب الصوم ج 1ص 207
مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے کا گمان غالب ہو تو اذن ہیکہ اس دن روزہ نہ رکھے پھر اسکی قضا اسی طرح پورا رمضان بیمار رہا تو جب ٹھیک ہو روزوں کی قضا کرے محض فدیہ کافی نہ ہوگا
روزوں کے بدلہ فدیہ اس صورت میں ہے کہ بدن میں اتنی طاقت نہ رہی کہ روزہ رکھے اور مستقبل میں صحتیاب نہ ہونے کا یقین ہو تو فدیہ ادا کرے
بہارشریعت ح5 ص1003
واللہ اعلم
کتبہ
ابو الثاقب محمد جواد القادری واحدی روسوی ثم لکھیم پوری
تاریخ
۹/۷/۱۴۴۱ھ مطابق ۲۰۲۰/ ۵/۳
یوم پنجشنبہ جمعرات
No comments:
Post a Comment