سوال نمبر 203
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و مغفرہ
میرا ایک سوال ہے اعتکاف کے بارے میں کچھ حوالے کے ساتھ جواب عنایت کردیں نیز اعتکاف میں کیا کیا کرنا چاہیے جواب عنایت کر دیں مہربانی ہوگی نوازش ہوگی کرم ہوگا
سائل محمد ارشاد خان قادری شہر بہرائچ شریف یوپی
الجواب بعون الملک الوہاب
میرے پیارے آقا صل اللہ علیہ وسلم کے پیارے دیوانو!
اللہ تبارک و تعالٰی نے انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے
جیسا.
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
میں نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا
عبادت کہتے ہیں اللہ تبارک و تعالٰی کی بندگی اور اس کے احکام کو بجا لانے کو
عبادت کا مفہوم بہت وسیع ہے ہم نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں صدقہ و خیرات کرتے ہیں حج کرتے ہیں عمرہ کرتے ہیں غریبوں کی مدد کرتے ہیں مدارس اسلامیہ کی تعمیر مسجدوں کی تعمیر اور اپنے جائز کمائی سے طالبان علوم دینیہ کا تعاون کرتے ہیں، یہ ساری چیزیں عبادت میں شمار ہوتی ہیں،
اور ان کے علاوہ عبادت کے کئی اور طریقے بے شمار ہیں،،
ماہ رمضان المبارک میں جہاں ہمیں اور دیگر عبادتوں کا اہتمام کرنا ہے وہیں ہمیں اعتکاف کرنے کی بھی کوشش کرنی ہے،
ہم یہاں اعتکاف کی چند باتیں پیش کرتے ہیں تاکہ اسے پڑھنے کے بعد اعتکاف کرنے کا جزبہ پیدا ہو،،،
اعتکاف کا لغوی اور شرعی معنی
اعتکاف کا لغوی معنی علامہ اصفہانی نے،، تعظیم کے نیت سے کسی چیز کے پاس ٹھہرنا،، بیان کیا ہے اور شریعت میں عبادت کی نیت سے مسجد میں ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے ہیں،، شرح صحیح مسلم، ص، 220
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، نافع کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے وہ جگہ دکھائی جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے
ایضا 371
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان فرماتی ہیں ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یعتکف العشر الاواخر من رمضان حتی توفاہ اللہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ رفیق اعلٰی سے جاملے بخاری ١/٢٧١
میرے پیارے آقا صل اللہ علیہ وسلم کے پیارے دیوانو! مذکورہ بالا حدیث سے یہ ثابت کہ کان یعتکف کا لفظ آیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف پر مداومت اور استمرار پر دلالت کرتا ہے جس سے یہ ثابت ہوا کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے بلاستمرار اعتکاف فرمایا کرتے تھے...
اب یہاں پر مناسب سمجھتا ہوں کہ کچھ اعتکاف کے فضائل بیان کردوں
اعتکاف کے فضائل
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا،، وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیوں سے اس کو اس قدر ثواب ملتا ہے کہ جیسے اس نے تمام نیکیاں کیں، ابن ماجہ،
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک میں دس دنوں کا اعتکاف کر لیا تو ایسا ہے جیسے اس نے دو حج اور دو عمرے کئے،، بیہقی،،
اعتکاف کے بارے میں متواتر احادیث مبارکہ میں فضیلت آیا ہے تحریر لمبی ہونے پر اب یہاں مناسب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اعتکاف کے ایام میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے
اعتکاف میں کئے جانے والے اعمال
1.نماز پنجگانہ کی تکبیر اولی کے ساتھ پہلی صف میں صف بندی کریں.
2. عمامہ شریف باندھ کر نماز پڑھیں.
3.روزانہ کم سے کم 3 پارے قرآن مجید کی تلاوت کریں تاکہ اعتکاف ختم ہوتے ہوتے ایک قرآن ختم ہو جائے.
4. قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر کنزالایمان سے مطالعہ کرے.
5. مقررہ وقت میں علمائے اہل سنت کے کتابوں کا مطالعہ کرے جس سے علم حاصل ہو.
6. اگر ممکن ہو سکے تو چند مخصوص لوگوں سے مقررہ اوقات میں پندو نصیحت کی باتیں کرے.
7. مخصوص وقت میں درود شریف کا ورد کریں.
8. رات میں نوافل کی کثرت کریں.
9. ہر کام سنت کے مطابق کریں.
10. نماز تہجد، چاشت، اشراق، اوابین وغیرہ نوافل پڑھیں.
11. اگر ذمہ میں قضا نمازیں باقی ہیں تو انھیں ادا کرے.
12. توبہ و استغفار کرے.
13. اپنے اور پورے امت مسلمہ کے فلاح و بہبود کی دعاء کرے.
14. اپنی زندگی میں انقلاب پیدا ہونے اور ساری زندگی عشق رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم گزرنے اور موت کے وقت ایمان پر خاتمہ ہونے کی دعاء کریں..
ان شاءاللہ عزوجل اعتکاف میں مذکورہ بالا اعمال کرنے سے ہم نیکیوں کا ذخیرہ اپنے دامن میں اکٹھا کر لیں گے.
اور ہمیں عبادت میں لطف بھی آئے گا.
اللہ تبارک و تعالٰی کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ ہمیں ان تمام اعمال کی توفیق عطا فرمائے. آمین ثم آمین
کتبہ
صبغت اللہ فیضی نظامی
No comments:
Post a Comment