سوال نمبر 204
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ میں ایک امام صاحب جو پانچوں وقت نماز پڑھاتے ہیں اور نماز کے حالت میں شلوار ٹخنوں کے نیچے ہمیشہ رہتا ہے اب ایسے امام پر کیا حکم لگے گا علمائے کرام وضاحت کے ساتھ جواب سے نوازیں مہر بانی ہوگی
سائل احسان رضوی بہار
الجواب ھوالموفق للحق والصواب
مرد کے لئے نماز میں یا نماز کے باہر اپنے کپڑوں کو ٹخنے سے نیچے لٹکانا ممنوع ہیں،
حدیث میں اسے قابل لعنت عمل کہا گیا ہے!
عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "ما اسفل من الکعبین من الازار فی النار" (رواہ البخاری حدیث نمبر141 باب اللباس)
لہذا نماز کی حالت میں بالخصوص کوئی ایسا لباس پینٹ یا پائجامہ پہننا جس سے ٹخنے ڈھک جائیں قطعا ناجائز ہوگا،اگرچہ مسبل(پائجامہ لٹکانے والا) یہ ظاہر کرے کہ میں تکبر کی وجہ سے نہیں کر رہا ہو،ہاں اگر غیر اختیاری طور پر ایسا ہوجائے،یا کسی یقینی قرینہ سے معلوم ہو کہ اسمیں کبر نہیں تو پھر یہ حکم نہیں لگے گا،
لیکن عام حالات میں تکبر اور غیر تکبر کے درمیان فرق کرنا،ایک کو جائز اور دوسرے کو ناجائز کہنا، یا ایک کو مکروہ تحریمی اور دوسرے کو تنزیھی شمار کرنا مشکل ہے،کیونکہ حدیث میں ٹخنے سے نیچے ازار لٹکانے کو کبر کی علامت کہا ہے،اور جن احادیث میں خیلاء کی قید ہے تو یہ قید احترازی نہیں ہے،بلکہ اتفاقی یا واقعی ہے کہ ازار لٹکانے والا متکبر ہی ہوتا ہے،ورنہ کیا وجہ ہے کہ ٹخنوں سے اونچا پاجامہ اور پینٹ پہننے کو عار سمجھا جاتا ہے،اور ایسا پہننے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے،اور اس بابت ان سے مضحکہ بھی کرتے ہیں،
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے :-
ان الاسبال یستلزم جر الثوب،و جر الثوب یستلزم الخیلاء،و لو لم یقصد اللابس الخیلاء
(فتح الباری ۱۰/۲۶۷)
یعنی اسبال(مطلقا) کپڑا لٹکانے کو مستلزم ہے اور کپڑا لٹکانا یہ تکبر کو مستلزم ہے اگرچہ پہننے والا تکبر کا ارادہ نہ کرے،
تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ناقابلِ قبول دعوی ہے،بلکہ ازار کا لٹکانا بذات خود تکبر کی دلیل ہے
اور اگر بالفرض کسی نے ایسا لمبا کپڑا پہن رکھا ہے،تو اسکے لئے لازم ہے کہ وہ نیچے سے موڑ کر ٹخنے کھول لے،تاکہ گناہ سے بچ جائے،کیونکہ ٹخنے کو ڈھکنے کے مقابل میں پائچہ موڑنے کی کراہت اھون(ہلکی)ہے
مسلم کی حدیث "امرت ان اسجد علی سبعة اعظم و لا اکف ثوبا و لا شعرا" سے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ کپڑے موڑکر نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی ہے تو یاد رہے کہ اسکا مصداق آستین وغیرہ کا کپڑا موڑنا ہے،اسکا تعلق پائجامہ سے نہیں ہے،اسی طرح فقہ میں جو کف ثوب کا ذکر ملتا ہے اس سے مراد نمازی کا آستین چڑھا کر نماز میں داخل ہونا مراد ہے یا دوران نماز اپنے کپڑے کو آگے پیچھے سے سمیٹنا تاکہ مٹی وغیرہ نہ لگے، یا اس سے مراد یہ کہ پہلے سے کپڑے کو اٹھائے رکھے مٹی سے بچانے یا اظہار تکبر کے مقصد سے ،
برخلاف نماز کے لئے پائجے چڑھانا یہ ایک نیک مقصد یعنی دوران نماز گناہ سے بچنے کے لئے ہے،اور اسمیں نہ تو تکبر ہے اور نہ ہی بے ادبی،!
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بوقت نماز لائچے کو اوپر چڑھا لیتا ہے،تاکہ نماز کے وقت کم از کم گناہ سے بچا رہے،
لہذا یہ فعل مستحسن ہوگا نہ کہ مکروہ، اور
نماز چونکہ موقعہ ہی اللہ کے سامنے فروتنی اور بندگی کے اظہار کاہے ،اس لئے نماز کی حالت میں ٹخنوں سے کپڑوں کا لٹکانا نسبتا زیادہ مکروہ اور نامناسب عمل ہے
ٹخنہ سے نیچے لٹکنے والے پاجامہ اور پینٹ کے پائنچے کو موڑکر اوپر کر نے کے بعد نماز پڑھی جائے تو نماز بلاکراہت درست ہوجائے گی، چاہیےکہ اندر کی طرف سے موڑ لیا جائے بہر صورت کراہت ختم ہوجائے گی؛
بعض حضرات ابو داود کی مذکورہ حدیث کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ سمجھتے ہے وہ غلط ہے ، کیونکہ حدیث میں جو فرمایا گیا کہ ٹخنہ ڈھک کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی ، اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سرے سے نماز کا ثواب ہی نہیں ملتا؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ کامل نماز کا ثواب حاصل نہیں ہوتا، گویا قبولیتِ کاملہ کی نفی ہے۔
امام مذکور کو اپنے اس عمل سے باز آناچاہئے اورحکم شرع اپناکر اسکی اتباع کرنی ضروری ہے
والله تعالی اعلم وعلمه احكم
كتبـه
منظوراحمد یارعـــلوی
ماشاءاللہ. .مفتی صاحب قبلہ.. آج ایک نئ وضاحت معلوم ہوئ.... کپڑا موڑنے کے تعلق سے. .. جزاک اللہ... حضور اگر لنگی ٹخنے کے نیچے ہو تو ؟
ReplyDelete