کرونا عالمی وبا کیوں

قدقامت الصلوۃ پر کیا کہیں

سوال نمبر 246

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ   گروپ ھذا کے جملہ معزز علماء ومفتیان کرام سے میرا ایک سوال ھے کہ اقامت میں قد قامت الصلوٰة پر مؤذن آۓ تو کیا جواب دینا چاھیۓ اس سوال کے جواب دینے میں میری رھنمائ فرمائیں عین کرم ہوگا
 سائل محمد ھارون رضا رضوی گجرات انڈیا



الجواب ھوالموفق للحق والصواب

قدقامت الصلوةکے جواب میں اقامہا اللہ وادامہا کہاجائے گا

اقامت کا جواب بھی مستحب ہے، جس طریقے سے اذان کا جواب دیا  جاتا ہے اسی طریقے سے اقامت کا جواب ہے، اور "قد قامت الصلوۃ "  کا جواب " أقامها الله وأدامها " سے دینا چاہیے۔

 الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة (1/ 400):
"( ويجيب الإقامة ) ندباً إجماعاً ( كالأذان ) ويقول عند قد قامت الصلاة: أقامها الله وأدامها".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 273):
"وفي فتح القدير: إن إجابة الإقامة مستحبة".
 واللہ تعالی اعلم


کتبـه
منظوراحمد یارعـــلوی

No comments:

Post a Comment

Facebook

Most Recent

رابطہ فارم

Name

Email *

Message *

مشہور اشاعتیں

Slider Widget

Search This Blog

Tags

Most Popular

حالیہ مسائل

صفحہ دیکھے جانے کی کل تعداد