سوال نمبر 423
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال علمائے کرام کی بارگاہ میں مودبانہ گزارش ہے کہ شادی ہونے کے بعد اگر بیوی کا انتقال ہو جائے تو شوہر جہیز کو لڑکی کے گھر واپس کریگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں
سائل جنید عالم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب الحمدﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ والہ وصحبہ المکرمین جہیز کاجو سامان ہوتا اس کی مالکہ عورت ہوتی ہے اس لئے اس کے انتقال کے بعد اس کے میکے نہیں دیا جائے گا بلکہ اس کی اولادوں اور شوہر میں تقسیم ہوگا اسطرح کی اگر اس کی اولاد نہ ہوں تو شوہر کو آدھا ملے گا اور اگر اولاد ہوں تو شوہر کو چوتھائی ملے گا وصیت اور دین نکال کر جیسا کہ ارشاد ربانی ہے
لَکُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَکَ اَزۡوَاجُکُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ
لَکُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَکَ اَزۡوَاجُکُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ
ترجمہ اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو ، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر . (سورہ نساء ۱۲)
اور اسکے ماں باپ ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا حصہ ملے گا اگر اسکی اولاد ہوں.
اوراگر اس کی اولاد نہ ہو تو ماں باپ کو تہائی حصہ ملے گا
اور اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا وصیت اور دین نکال کرکے.
اور اگر اولاد ہوں تو لڑکے کو دوحصہ ملے گا اور لڑکی کو ایک حصہ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے
یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتۡ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصۡفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخۡوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ
یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتۡ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصۡفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخۡوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کےاور اگر اولاد نہ ہوں تو بھائی کو دوحصہ اور بہن کو ایک حصہ ملے گا. (سورہ نساء۱۱) واللہ اعلم.بالصواب
کتبہ
الفقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی اترولوی
۱۴/محرم الحرام ۱۴۴۱ھ
۱۴/ستمبر ۲۰۱۹ء سنیچر
No comments:
Post a Comment